بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے روک تھام کے لیے عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چایئے۔ بی آر ایس او

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی آر ایس او کی جانب سے جرمنی کے شہر پادربورن میں آگاہی مہم چلائی گئی جس کا مقصد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی مظالم کے خلاف یورپین باشندوں کا آگاہی دینا تھا۔

بی آر ایس او کے ترجمان نے کہا ہے کہ آگاہی مہم کے دوران بڑی تعداد میں مقامی باشندوں کو بلوچستان میں ہونے والی ریاستی مظالم اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں آگاہی دی گئی اور مقامی زبان میں پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ بلوچستان میں نام نہاد جمہوری حکومت جہاں لوگوں کو رہا کرنے کے دعوے کر رہی ہے تو وہی مزید لوگوں کو جبری طورپر لاپتہ بھی کیا جارہا ہے، جس سے حکومت کی بے بسی کا اندازا ہوتا ہے۔ بلوچستان میں کئی سالوں سے فوجی حکومت قائم ہے۔

بلوچستان میں سول حکومت صرف ایک دھوکہ ہے، اصل حکومت فوج اور خفیہ اداروں کی ہے جو جب جو چاہیں کرسکتے ہیں جنہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ بلوچستان حکومت نے جہاں لوگوں کو رہا کرنے کا دعوہ کیا ہے تو وہی جتنے لوگ رہا کیے گئے اُس سے کئی زیادہ لوگوں کو جبری طورپر لاپتہ کیا گیا ہے۔

ترجمان نے انسانی حقوق کے اداروں اور مہذب دنیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے بلوچستان میں سالوں سے جاری ریاستی مظالم کو روکنے کے لیے مہذب دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔