بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف جرمنی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن، ریاستی مظالم، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف بی آر ایس او کی جانب سے جرمنی کے شہر بیلی فیلڈ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

بی آر ایس او کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مظاہرہ جرمنی کے شہر بیلی فیلڈ میں بروز ہفتہ کیا گیا تھا جس کا مقصد بلوچستان میں جاریریاستی مظالم کو بین القوامی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے زاہد عرصے سے جاری فوجی آپریشن میں اب تک ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کو ریاستی فورسز اور خفیہ ادروں کے اہلکار شہید کر چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزند آج بھی عسکری اداروں  کے قید میں ہر طرح کی انسانیت سوز مظالم سے گزر رہے ہیں، جبکہ حالیہ کچھ مہینوں میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بلوچ خواتین کا اغوا بلوچستان کی صورتِ حال کو مزید خرابی کی جانب دھکیل سکتی ہے، جس معاشرے میں خواتین کو اعلیٰ مقام حاصل ہو وہاں خواتین کی جبری گمشدگیاں آگ پر تیل چھڑکنا ہےا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بی آر ایس او اپنی بساط کے مطابق تحریک میں اپنی شراکت داری اور بلوچستان میں جاری ریاستی مظالم کو اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی گی اور آزاد بلوچ ریاست کے قیام تک ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔