شہدائے مرگاپ کو انکی دسویں برسی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ بی آر ایس او

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے شہدائےمرگاپ کو انکی دسویں برسی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے مرگاپ نے بلوچ گلزمین کی آزادی اور بلوچ قومی بقا کے لیے خود کو قربان کیا۔

بی آر ایس او کے ترجمان نے شہید شیر محمد ، شہید غلام محمد اور شہید لالہ منیر بلوچ کی دسویں برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہدائے مرگاپ کی جدائی سے پیدا ہونے والی خلارہتی دنیا تک قائم رہیگی لیکن انکے فکر اور نظریئے کی پیروی کرتے ہوئے ہمیں انکے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا۔ریاست پاکستان ہمارے رہنماوں کو ہم سے جسمانی طورپر جدا کر کے شائد یہ سمجھتی ہے کہ ایسا کرنے سے وہ بلوچ قومی تحریک کو کچلنے میں کامیابی حاصل کرلیگی  لیکن حقیقت کچھ اور بیان کر رہی ہے۔ 

ریاستی اداروں نے نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کیا جس کے اثرات نے پورے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن ریاستی اداروں نے کچھ سبق حاصل نہیں کیا پھر عسکری قوتوں نے غلام محمد، شیر محمد اور لالہ منیر کو اغوا بعد بے دردی سے شہید کردیا جس پر پورا مکران ریاستی اداروں کے مجرمانہ ، دہشتگردانہ اور بزدلانہ عمل کے خلاف متحد ہوکر آزاد بلوچستان کی جدوجہد میں شامل ہوگیا لیکن پھر بھی ریاستی اداروں نے کچھ سبق نہیں سیکھا،  بلوچوں کی پُرامن آوازوں کو دبانے کے لیے لوگوں کو قتل کرنے کا سلسلہ آج تک جاری ہے، اور بلوچ  بھی اپنے سروں کی قربانیاں دیکر ریاستی اداروں اور پوری دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ بلوچ اپنے سروں کو تو قربان کرسکتے ہیں لیکن قومی آزادی، مادرِ وطن کی دفاع، بلوچ ننگ و ناموس اور بلوچ سائل وسائل کی حفاظت سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے۔ ہزاروں شہدا نے اپنی جانوں کو قربان کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ بلوچ قومی آزادی کے موقف سے دستبرداری کفر بن چکا ہے۔ 

بی آر ایس او کے ترجمان نے کہا کہ آج پاکستان عالمی دنیا میں تنہائی کا شکار ہے، ملکی معیشت تباہ ہے سیاسی و عسکری ادارے کرپٹ ہیں ، کوئی ایک بھی ادارہ احسن طریقے سے اپنا کام انجام نہیں دے رہا،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک فیل اسٹیٹ ہے۔ اپنی گرتی ہوئی معیشت اور کھوکھلے اداروں کو مزید چلانے کے لیے ریاستی ادارے بلوچ قومی سائل اور وسائل کا غیر ملکیوں سے سودا کر رہے ہیں ، کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ بلوچستان آج نہیں تو کل انکے ہاتھ سے نکلنے والا ہے اسی لیے وہ بلوچستان کے وسائل کو تیزی سے لوٹنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور بلوچستان پر اپنے قبضے کو مضبوط اور مسحکم کرنے کے لیے ریاست ہر کوشش کر رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ تاریخ میں شائد موجودہ حالات جیسے پرکٹھن و مشکل حالات کبھی نہ رہے ہوں ، آج چین اور پاکستان متحد ہوکر بلوچ سرزمین پر قابض ہیں جن سے چٹکارا پانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہمیں اپنے اختلافات اور مسائل کو باہمی گفت و شنید سے حل کرنا ہوگا اورمتحد ہوکر قابض قوتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا وگرنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کریگی۔