شہدائے مرگاپ کو انکی عظیم قربانیوں پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں

بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے شہدائے مرگاپ کی بھرسی کی مناسبت سے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین شہید غلام محمد بلوچ ، بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیر محمد بلوچ اور بی این ایم کے مر کزی رہنما لالا منیر بلوچ کی قربانیوں کی بدولت مکران و بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بلوچ نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا۔

بی آر ایس او شہدائے مرگاپ کو انکی عظیم اور بے لوث قربانیوں پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، اور ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ شہدائے مرگاپ اور بلوچستان کے دیگر شہدا کی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بلوچ عوام کی حمایت سے شہدا کے مشن کو ایک دن ضرور پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

شہدائے مرگاپ اور بلوچستان کے دیگر ہزاروں شہیدوں نے بلوچ قومی شناخت اور بلوچ وطن کی آزادی کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں پاکستانی غلامی سے آزاد ہوکر اپنی سرزمین کے مالک خود ہوں اور بلوچ رویات، زبان اور بلوچ شناخت زندہ رہہ سکیں۔

قابض ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہدائے مرگاپ کو جسمانی طورپر ہم سے جدا کر کے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی لیکن بلوچ قوم نے شہدائے مرگاپ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے ہوئے بلوچ قومی شناخت اور وطن کی آزادی کے لیے ہزاروں سر قربان کیئے۔ ریاستی فورسز اور خفیہ ادارے اس خوش فہمی میں مبتلہ تھے کہ بلوچ قومی رہنماوں کو شہید کر کے بلوچ قوم میں مایوسی اور خوف پیدا کر کے تحریک کو کچل دیا جائے گا لیکن وہ اس سازش میں بُری طرح ناکام رہے۔ شہدائے مرگاپ کی شہادت کے بعد بلوچستان میں آزادی کے لیے جدوجہد میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ اور بلوچستان بھر میں ان کی جدوجہد سے نا ختم ہونے والا ایک ایساسلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے، جسے اب روکھنا پاکستانی ریاست کے بس کی بات نہیں۔